Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پورے گھر کی طرف سے ایک قربانی کا شرعی حکم؟
Answer (beginning)
ایک سے زیادہ افراد پر قربانی واجب ہونے کی صورت میں ان سب کی طرف سے صرف ایک بکری یا صرف ایک حصے کی قربانی کرنا درست نہیں، بلکہ ان سب پر لازم ہو گا کہ الگ الگ بکری یا بڑے جانور میں الگ الگ حصے کی قربانی کریں، کیونکہ بکرے یا بکری کی قربانی میں ایک سے زیادہ حصے نہیں ہو سکتے ، لہذا ایک قربانی کسی ایک طے شدہ فرد ہی کی طرف سے کی جاسکتی ہے ، اسی طرح بڑے جانور میں سے ایک حصے کی قربانی بھی صرف ایک شخص ہی کی طرف سے کی جاسکتی ہے، ایک سے زیادہ افراد کی طرف سے نہیں کی جاسکتی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.