Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سات افراد میں سے ایک فوت ہو جائے تو قربانی کا حکم؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر فوت ہونے والے کے بالغ ورثا اس کی طرف سے قربانی کرنے کی اجازت دے دیں، تو اس کی طرف سے قربانی کرنا بلا شبہ جائز ہے اور بقیہ سب کی بھی قربانی ادا ہو جائے گی اور اگر ڈر ثا کی اجازت کے بغیر دیگر شرکائے قربانی نے خود ہی جانور ذبح کر دیا ، تو ایسی صورت میں کسی کی بھی قربانی نہیں ہو گی ، البتہ اس کا گوشت پاکیزہ و حلال ہی ہو گا۔ مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ قربانی میں تقریب ( یعنی خالصتا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربانی کرنے ) کی نیت ہونا ضروری ہے اور جب بڑے جانور میں حصہ ہو، تو تمام افراد کی نیت لکڑراب ہو نا ضروری ہے ، ایک کی بھی نیت، قربت کی نہ ہوئی یا کوئی اور نیت ، مثلاً گوشت…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.