Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بے ہوشی میں قضا نمازوں کا حکم
Answer (beginning)
انجیکشن اور دوائی وغیرہ مصنوعی طریقہ سے جو بے ہوشی طاری کی جائے ، اس سے اگر بندہ بے ہوش ہو تو وہ بے ہوشی چاہے کتنی ہی طویل ہو ، اس دوران چھ نمازیں فوت ہو جائیں یا ان سے زیادہ، بہر صورت فوت ہونے والی تمام نمازوں کی قضا اس پر لازم ہو گی۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ اگر بے ہوشی کسی آفت سماویہ کے سبب ہو یعنی من جهة الله ہو، تو وہ اگر اتنی طویل ہو کہ چھ نمازیں یا ان سے زیادہ ہو ہو، تو اگرتنی بیان فوت ہو جائیں تو ان کی قضا نہیں ہوتی ، اور اگر چھ سے کم نمازیں فوت ہوں، تو ان کی قضالازم ہوتی ہے اور یہ مسئلہ استحسانا، خلاف قیاس نصوص و آثار سے ثابت ہے اور نصوص میں بے ہوشی کی وہی صورت ہے ، جو آفت سماوی کی وجہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.