Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قبر میں چٹائی بچھانے کا حکم ؟

Answer (beginning)

قبر میں میت کے نیچے چٹائی وغیرہ بچھانا،ناجائز ہے کہ یہ بلاوجہ مال کو ضائع کرنا ہے۔ سنن الترمذی میں ہے: ”قدروی عن ابن عباس انه كره ان يلقى تحت الميت فی القبرشی‘ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ اس بات کو نا پسند جانتے تھے کہ قبر میں میت کے نیچے کوئی چیز رکھی جائے۔ (سنن الترمذی، جلد 2، صفحه 357، دار الغرب الاسلامی، بیروت) حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، جلد 1، صفحہ 608، اور فتاوی شامی میں الفاظ مختلفہ کے ساتھ ہے : ویکرہ ان يوضع تحت الميت في القبر مضربة او مخدة او حصيرا ونحو ذلك ولعل وجهه انه اتلاف مال بلا ضرورة، فالكراهة تحريمية، ولذا عبر بلا یجوز…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.