Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازی کے آگے سے گزر گیا تو کیا اس غلطی کے ازالے کے لیے واپس آنا ہوگا ؟

Answer (beginning)

جواب جاننے سے قبل یہ شرعی حکم ذہن نشین کر لیجئے کہ کوئی شخص اگر کسی مکان یا مسجد صغیر (یعنی چھوٹی مسجد اور آج کل عام مساجد، مسجد صغیر ہی کے حکم میں ہیں) میں نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے آگے سترہ نہ ہو، تو دوسرے شخص کا دیوارِ قبلہ تک اس کے آگے سے گزرنا، نا جائز و گناہ ہے اور اگر نمازی صحراء یا مسجد کبیر (یعنی بڑی مسجد ، جیسے مسجد حرام اور مسجد نبوی شریف کہ فی زمانہ اپنے عظیم رقبے کی وجہ سے مسجد کبیر ہیں) میں نماز ادا کر رہا ہو، تو بغیر سترہ موضع سجدہ ( قیام کی حالت میں سجدہ کی جگہ کی طرف نظر کریں، تو جتنی دور تک نگاہ احاطہ کرے، اس) تک گزرنا، جائز نہیں ، البتہ موضع سجدہ کے باہر سے گزر سکتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.