Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پیشہ ور بھکاری کا مانگنا ، بد دعا سے بچنے کے لیے ایسوں کو دینا کیسا ؟

Answer (beginning)

کس شخص کے لیے سوال حلال ہے اور کس کے لیے نہیں ؟ اس بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ جس کے پاس اپنی ضروریات شرعیہ کو پورا کرنے کی مقدار مال موجود ہو یا اتنامال تو نہ ہو، لیکن کما کر ضروریات پوری کر سکتا ہوں، تو ایسے شخص کا سوال کرنا حرام ہے، مثلاً: جس کے پاس ایک دن کا کھانا موجود ہے یا کما کر کھا سکتا ہے، تو ایسے شخص کا کھانے کے لیے سوال کرنا، جائز نہیں۔ یو نہی بدن چھپانے کے لیے کپڑے کا بندوبست کر سکتا ہے ، تو اس کے لیے کپڑے کا سوال کرنا، جائز نہیں و على هذا القیاس اور دینے والے کو اس کی یہ کیفیت معلوم ہو ، تو اسے دینا بھی حرام ہے، کیونکہ یہ گناہ پر تعاون ہے اور گناہ پر تعاون بھی حرام ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.