Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دوشہروں کی آبادی مل جائے، تونماز میں قصر کا حکم

Answer (beginning)

ایسے دو شہر جو عرفاً قانون مستقل ہوں اور ان کی آبادی آپس میں مل گئی ہو ، اگر ان میں سے ایک کا شہری دوسرے ملے ہوئے شہر کی جانب سے سفر شرعی کا آغاز کرے، تو اپنے شہر کی حدود سے نکلتے ہی وہ قصر کرے گا، اگر چہ وہ دوسرے شہر متصل کی آبادی میں ہو، کیونکہ سفر شرعی و قصر کے لیے اپنے شہر کی آبادی سے نکلنے کا اعتبار ہے اور جو اپنے شہر سے متصل آبادی اسی شہر کے تابع ہو ، تو اس سے بھی نکل جانا ضروری ہے، کیونکہ یہ اسی شہر کے حکم میں ہوتی ہے، جبکہ ایسے دو شہر جو دونوں مستقل شہر ہوں تو عرفاً ایک سے دوسرے میں داخل ہونے والا اپنے شہر کی آبادی سے نکلنے والا ہی کہلاتا ہے اور شرعاً مسافر بننے اور قصر شرعی کرنے کے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.