Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

لائف انشورنس سے ملنے والی رقم سے حج کر سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

لائف انشورنس میں ملنے والی زائد رقم سود ہے، اس لیے کہ انشورنس کمپنی بیمہ ہولڈر سے جن شرائط و اصول کے تحت رقم لیتی ہے، اس کی بناء پر اس رقم کی حیثیت فقط قرض کی ہوتی ہے، اس لیے پالیسی لینے والا شخص ( قرض خواہ اور انشورنس کمپنی ( قرض دار کی حیثیت رکھتے ہیں اور چونکہ شرعی اعتبار سے قرض پر معاہدے کے تحت کچھ زائد لینا، اگر چہ مقدار فکس نہ ہو ، سود ہوتا ہے، جبکہ کمپنی اپنے پالیسی ہولڈر کو اس کی جمع شدہ رقم پر زائد رقم ادا کرنے کی پابند ہوتی ہے اور یہ سود ہے اور جو حج سودی رقم سے ادا کیا جائے وہ قبول نہیں ہو تا، کیونکہ اللہ عزوجل پاک ہے اور وہ صرف پاک چیزوں کو ہی قبول کرتا ہے، البتہ اس سے فرض ساقط ہو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.