Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد کے چندے سے کسی کاروباری شخص کو قرض دینا

Answer (beginning)

مسجد کا چندہ مسجد میں کیے جانے والے عمومی اخراجات ، مثلاً : تعمیرات ، امام و مؤذن ، خادمین کے وظائف اور صفائی ستھرائی میں ہونے والے اخراجات وغیرہ کے لیے دیا جاتا ہے ، اسے انہی مصارف میں استعمال کرناضروری ہے ، ذاتی استعمال میں لانا، کسی کو بطور قرض دینا یا مصارف مسجد کے علاوہ میں خرچ کرنا، ناجائز و گناہ ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں مسجد کے متولی کا لوگوں کو کاروبار وغیرہ کے لیے مسجد کا چندہ دینا نا جائز و گناہ ہے ، اس پر لازم ہے کہ آئندہ کے لیے اس سے سچی توبہ کرے اور چندے کی جتنی رقم قرض میں دی ہے ، اس کا تاوان بھی مسجد کو ادا کرے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.