Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چار رکعتی نفلوں میں پہلا قعدہ فرض ہے یا واجب نیز بھول جانے کی صورت میں نماز کا حکم

Answer (beginning)

دو رکعت نفل کے متعلق تو اتفاق ہے کہ اس میں دوسری رکعت پر قعدہ فرض ہے، اگر قعدہ کیے بغیر بھول کر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے ، تو سجدہ سے پہلے پہلے واپس لوٹنالازم ہے ، ورنہ نفل باطل ہو جائیں گے۔ ہم ، بدائع الصنائع میں ہے: " ولو كان نوى أن يتطوع بركعتين فقام من الثانية إلى الثالثة قبل أن يقعد فيعود ههنا بلا خلاف بین مشايخنا لأن كل شفع بمنزلة صلاة الفجر اور اگر وہ دور کعت کی نیت کر چکا تھا، پھر قعدہ کرنے سے پہلے دوسری سے تیسری رکعت کی طرف کھڑا ہو گیا، تو یہاں وہ ہمارے مشائخ کے درمیان بغیر کسی اختلاف کے لوٹے گا، کیونکہ ہر شفع فجر کی نماز کے (بدائع الصنائع ، ج 2، ص 300، مطبوعہ دارالکتب العلميه،…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.