Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رشوت میں دی گئی رقم پر زکوٰۃ کا حکم؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں فقہی طور پر اگر چہ رشوت میں دینے کے باوجود وہ رقم زید کی ملکیت میں ہے ، لیکن اس رقم کی زکوۃ نکالنازید پر لازم نہیں۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ رشوت مالِ غصب کے حکم میں ہے ، تو جس طرح غصب میں مال اصل مالک کی ملکیت پر رہتا ہے اور غاصب اس مال پر غیر شرعی طریقہ پر قابض ہوتا ہے، یونہی رشوت کا پیسہ بھی دینے والے کی ملکیت پر ہوتا ہے اور لینے والا اس پر غیر شرعی طریقہ پر قابض ہوتا ہے اور غصب شدہ مال کے متعلق جب گواہ نہ ہوں ، تو اس کی زکوۃ نہ غاصب پر لازم ہوتی ہے کہ یہ اس کا مال ہے ہی نہیں، اور نہ ہی اصل مالک پر ، کہ وہ پورے طور پر اس کا مالک نہیں، جبکہ زکوۃ لازم ہونے کے لیے شرط ہے کہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.