Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چیز پر قبضہ کیے بغیر آگے بیچنا کیسا؟
Answer (beginning)
بیع سلم کے علاوہ کسی چیز کو خریدنے اور بیچنے میں شریعت اسلامیہ کا یہ قانون ہے کہ جس چیز کو بیچا جائے ، وہ بیچتے وقت اُس انسان کی ملکیت میں ہو اور اگر کہیں سے چیز خرید کر آگے بیچ رہا ہے، تو منقولی یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے قابل چیز کو خریدنے کے بعد اس پر حقیقی یا حکمی قبضہ ہونا بھی ضروری ہے۔ لہذا اگر کسی چیز کو خریدنے سے پہلے ہی بیچ دیا جائے، تو یہ بیچ ناجائز و باطل ہو گی کہ اس نے ایسی چیز کو بیچا ، جو ابھی اس کی ملکیت میں ہی نہیں ہے اور جو چیز بیچتے وقت انسان کی ملکیت میں نہ ہو، اُسے بیچنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.