Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ایک شہر میں پندرہ راتوں سے زیادہ کی نیت ہے لیکن دن کہیں اور گزارے گا ،تو نماز کا حکم

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں جب آپ کی نیت پندرہ (15) راتیں مسلسل حیدر آباد میں قیام کی ہے ، تو حیدر آباد پہنچنے پر آپ مقیم ہو جائیں گے اور پوری نماز پڑھیں گے ، اگر چہ دن میں آپ قریب کے شہر جو 92 کلو میٹر سے کم فاصلے پر ہوں ، جانے کا ارادہ ہو اور حیدر آباد کے ساتھ ساتھ ان قریبی شہروں میں بھی پوری نماز ہی پڑھیں گے۔ یہ یادر ہے کہ جب آپ حیدرآباد پہنچیں گے ، تب مقیم ہوں گے کہ راتیں بسر کرنے کی نیت حیدر آباد کی ہے ، اگر آپ حیدر آباد پہنچنے سے پہلے اس شہر چلے گئے، جہاں آپ کی دن گزارنے کی نیت تھی، مثلاً: کوٹری، جامشورو وغیرہ تو مقیم نہیں ہوں گے اور قصر نماز پڑھیں گے ، ہاں وہاں سے فارغ ہو کر حیدر آباد آگئے ، تو اب…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.