Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سورۃ الاخلاص میں الصمد کوسین کے ساتھ السمد پڑھا تو نماز کا حکم
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں نماز درست ادا ہو گئی۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ قراءت کرتے ہوئے ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھ دیا، تو اعتبار معنی کا ہے ، اگر معنی فاسد ہو جائیں، تو نماز فاسد ہو گی اور معنی فاسد نہ ہوں، تو نماز فاسد نہیں ہوتی۔ لفظ ”صد “ کا ایک معنی ہمیشہ باقی رہنے والی ذات ہے، یو نہی لفظ ”سم “ہمیشہ کے معنی میں بھی مستعمل ہے ، لہذا لفظ صمد کی جگہ ”سمد “ کہنے سے معنوی طور پر کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی ، جس کی وجہ سے نماز ہو جائے گی، البتہ جان بوجھ کر ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھنا اگر محض سستی و لا پرواہی کے سبب ہو ، تو سخت حرام اور گناہ ہے اور غلطی سے ایسا ہو گیا، تو کوئی گناہ نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.