Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مہر میں مقررشدہ پلاٹ معاف کیا، تو معاف ہو جائے گا ؟

Answer (beginning)

حق مہر میں اگر معین زمین یا کوئی اور معین سامان طے کیا جائے، تو معاف کرنے سے وہ معاف نہیں ہو تا ہے۔ لہذا آپ اپنے شوہر کو زمین معاف بھی کر دیتی ہیں، تو آپ کا حق باقی رہے گا۔ البتہ اگر ایسی صورت حال ہو جائے کہ عورت کا حق مہر معاف کرنے کے بعد حق مہر میں طے کیا جانے والا سامان، زمین وغیرہ تباہ و برباد ہو جائے، تو اب عورت اس کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ زمین کو مہر بنانا درست ہے ۔ جیسا کہ مہر کی اقسام اور ان کے احکام بیان کرتے ہوئے النتف فی الفتاوی میں ہے: ”والمهر المسمى ينصرف على خمسة أوجه: احدها معلوم وهو المعين ۔۔۔ فاما المعلوم فهو ان يتزوجھا ۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.