Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

منہ بھر قے کے ذرات نگل لینے کا کیا حکم ہے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں ان نجس ذرات کو نگل لینا شرعا نا جائز و گناہ ہے۔ مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ ایسی منہ بھرتے جس میں کھانا، پانی یا صفراء نکلے تو وہ قے وضو کو توڑ دیتی ہے اور انسانی بدن سے نکلنے والی ہر وہ چیز جو وضو یا غسل کو واجب کر دے، نجاست غلیظہ ہے اور شرعی طور پر کسی نجاست کو کھانا یا نگلنا ناجائز و گناہ ہے۔ جیسا کہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر کسی شخص کے منہ سے اتنا خون نکلے جس سے اس کا تھوک سرخ ہو جائے، تو اس صورت میں اس شخص کا منہ پاک کیے بغیر ہی اس ناپاک تھوک کو نگل لینا گناہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.