Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نوافل کی تعداد معین کیے بغیر مت مانی، تو کتنےنفل لازم ہوں گے ؟
Answer (beginning)
اول تو یہ یادر ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی کسی چیز کی منت مانے کہ اس کی جنس سے کوئی واجب ہو اور وہ اس منت کو کسی ایسے کام پر معلق کرے جس کام کا ہونا وہ چاہتا ہو تو اب شرط پائے جانے کی صورت میں اس منت کا پورا کرنا اس پر واجب ہو جاتا ہے، اب جبکہ صورت مسئولہ میں وہ شرط پائی گئی یعنی زید کے بیٹا پیدا ہو گیا، تو صورتِ مسئولہ میں زید پر لازم ہے کہ وہ اپنی اس منت کو پورا کرے یعنی گیارہ فقیروں کو ایک وقت کا کھلا ناکھلائے اور دور کعات نفل ادا کرے، کیونکہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر کسی شخص نے نماز کی منت مانتے وقت رکعات کو معین نہ کیا ہو تو اس صورت میں دورکعت نماز پڑھنا اس پر لازم ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.