Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا نابالغ سمجھدار بچے کی دی ہوئی اذان صحیح اور معتبر ہے ؟

Answer (beginning)

نابالغ اگر سمجھ دار ہو ، مخارج درست ہوں اور لوگ بھی اُس کی دی ہوئی اذان کو اذان ہی سمجھیں، تو ایسے نابالغ کا اذان دینا جائز ، مگر مکروہ تنزیہی ہے، لہذا بہتر ، مناسب اور اولی یہی ہے کہ کوئی بالغ اذان دے، تاکہ لوگ تشویش میں مبتلا نہ ہوں، لیکن نابالغ کے بجائے بالغ کا اذان دینا بھی اس صورت میں ہے ، جب صحیح اذان دینے والا موجود ہو اور اگر ایسا ہو کہ اگر نابالغ اذان نہیں دے گا، تو کوئی دوسرا ایسا شخص اذان دے گا، جس کے مخارج غلط، الفاظ کی ادائیگی غلط اور اذان ہی غلط ہو ، تو ایسے سے سو گنا بہتر ہے کہ کے مخارج خلط، نہ نابالغ ہی اذان دیدے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.