Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مخصوص ایام میں تفسیر کی کتابوں کو چھونے کا حکم

Answer (beginning)

اولاً یہ بات ذہن میں رہے کہ کتب تفاسیر دو طرح کی ہوتی ہیں۔ بعض تفاسیر مختصر ہوتی ہیں، جن میں تفسیر کی مقدار کم اور قرآن پاک کی مقدار غالب ہوتی ہے اور ان پر قرآن مجید کا اطلاق ہوتا ہے، یعنی انہیں تفسیر نہیں کہا جاتا، بلکہ حاشیے والا قرآن ہی کہا جاتا ہے، جیسے خزائن العرفان، نور العرفان وغیرہ ، ایسی تفاسیر کو ناپاکی کی حالت میں بلا حائل چھونا مکروہ تحریمی ، ناجائز و گناہ ہے اور بعض تفاسیر مفصل ہیں، جن میں تفسیر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور انہیں قرآن مجید نہیں کہا جاتا، بلکہ تفسیر کی کتاب یا کتا بیں کہا جاتا ہے، جیسے تفسیر کبیر ، تفسیر صراط الجنان و غیرہ، ان کے متعلق حکم یہ ہے کہ ان کو ناپاکی کی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.