Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا سخت سردی کی وجہ سے وضو و غسل کی جگہ تیمم کر سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت کا اجمالی جواب یہ ہے کہ فقط سردی یا پانی کا ٹھنڈا ہونا تیم کرنے کے لئے ہر گز ہر گز عذر نہیں، جس طرح عام دنوں میں نماز کے لئے وضو یا فرض غسل کرنا شرط ہے، یونہی سردی کے موسم میں بھی شرط ہے ، وضو و غسل پر قدرت ہونے کے باوجو د ، بلا اجازت شرعی تیم کر کے نماز پڑھیں گے ، تو سخت گنہگار اور عذاب نار کے حق دار ہوں گے اور وہ نماز بھی ادا نہیں ہو گی، بلکہ اسی طرح ذمہ پر باقی رہے گی، جسے وضو یا غسل کر کے دوبارہ پڑھنا فرض ہو گا، البتہ اگر پانی کے استعمال سے جان جانے یا کوئی عضو ہلاک ہونے یا بیمار ہونے یا بیماری بڑھنے یا پہلے سے بیمار آدمی کے دیر سے اچھا ہونے کا حقیقی خطرہ موجود ہو ، تو اس…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.