Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا مسجد یا فنائے مسجد میں بھیک مانگنے والے کی مدد کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

عین مسجد میں اپنی ذات کے لیے سوال کرنا مطلقاً نا جائز ہے اور ایسے سائل کو دینا بھی جائز نہیں، یو نہی عین مسجد کی طرح فنائے مسجد (جوتے اتارنے والی جگہ عموماً فنائے مسجد ہی ہوتی ہے، تو اس میں بھی اپنی ذات کے لیے سوال کرنا اور انہیں دینا منع ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص واقعتاً مستحق ہو، پیشہ ور بھکاری نہ ہو ، تو اسے مسجد سے باہر دے سکتے ہیں۔ تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ مساجد بھیک مانگنے کے لیے نہیں، بلکہ اللہ عزوجل کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہیں اور اس معاملے کی قباحت بیان کرتے ہوئے علماء نے بطورِ زجر یہاں تک فرمایا کہ جو مسجد میں اپنی ذات کے لیے سوال کرنے والے کو ایک پیسہ دے، اسے چاہئے کہ اللہ کی راہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.