Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا جانور کی آنتیں بیچنا شرعاً جائز ہے ؟

Answer (beginning)

آنتوں کا کھانا مکروہ تحریمی اور ناجائز و گناہ ہے، لہذا انہیں ایسے شخص کے ہاتھ فروخت کرنا کہ جس کے بارے میں بالیقین معلوم ہو کہ یہ انہیں کھائے گا، تو اُسے بیچنا نا جائز و گناہ ہے، کیونکہ یہ گناہ پر مدد کرنا ہے اور گناہ کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کرنے سے اللہ پاک نے منع فرمایا ہے ، البتہ اس شخص کو بیچنا کہ جو اس کا جائز استعمال کرے گا یا خریدار کے جائز یانا جائز استعمال کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں ہے ، تو اُسے بیچنا جائز ہے، جیسا کہ فقہائے کرام نے افیون کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ کسی ایسے شخص کو بیچنا کہ جو یقیناً اس کا ناجائز استعمال کرے گا، تو اُسے فروخت کرنا، ناجائز ہے، لیکن اگر ایسے شخص…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.