Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد میں نکاح کرنا کیسا؟

Answer (beginning)

DA مسجد میں عقد نکاح کرنا مستحب ہے ، مگر اس میں یہ خیال لازمی رکھا جائے کہ مسجد شور وغل اور ہر ایسے قول و عمل سے محفوظ رہے کہ جو احترام مسجد کے خلاف ہو، مثلاً: نا سمجھ بچے ہمراہ نہ لائے جائیں کہ اُچھل کو دکریں گے۔ یونہی مشاہدہ ہے کہ مسجد میں نکاح ہونے کے فوراً بعد سب کو مٹھائی کھلائی جاتی ہے، اس سے بچا جائے کہ مٹھائی کا شیر ایا اجزاء مسجد میں گرنے سے مسجد کے آلودہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ مسجد میں نکاح کرنے کے متعلق نبی اکرم صَلَّى الله تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ” أعلنوا هذا النكاح واجعلوه في المساجد ۔ ترجمہ: لوگو ! نکاح کا اعلان کیا کرو اور مسجدوں میں نکاح کرو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.