Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازِ جنازہ میں سلام ہاتھ چھوڑ کر یا باندھ کر پھریں؟‎

Answer (beginning)

نماز میں حالتِ قیام میں ہاتھ باندھنا وہاں سنت ہے ، جہاں قیام میں مسنون ذکر ہو اور اگر حالت قیام میں مسنون ذکر نہیں، تو ہاتھ لٹکانا نہ باندھنا) سنت ہے اور نماز جنازہ کی چوتھی تکبیر کے بعد ذکر مسنون نہیں ، لہذا چو تھی تکبیر کے بعد ہاتھ باندھنا سنت نہیں بلکہ ہاتھ لٹکانا سنت ہے۔ خلاصۃ الفتاوی میں ہے : " ولا يعقد بعد التكبير الرابع لانه لا يبقى ذكر مسنون حتى يعقد فالصحيح انه يحل اليدين ثم يسلم تسليمتين هکذا فی الذخيرة “ ترجمہ: اور چوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ نہیں باندھے گا، کیونکہ اب کوئی مسنون ذکر باقی نہ رہا، جس کے لیے ہاتھ باندھے ، پس صحیح یہ ہے کہ وہ دونوں ہاتھ کھول دے گا، پھر دونوں سلام پھیرے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.