Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شرعی مسافر نے دو کی بجائے ، چار رکعتیں پڑھ لیں ، تو اب نماز کا کیا حکم ہے ؟
Answer (beginning)
شرعی مسافر پر واجب ہے کہ نماز میں قصر کرے، یعنی چار رکعت والے فرض، مثلاً ظہر ، عصر اور عشاء کو دو پڑھے کہ اس کے حق میں دو رکعتیں ہی پوری نماز ہے ، لہذا اگر جان بوجھ کر دو کی بجائے چار رکعتیں ادا کیں اور دوسری رکعت پر قعدہ کیا تھا ، تو فرض ادا ہو گئے اور آخری دور کعتیں نفل ہو گئیں، مگر ترک واجب کے سبب کراہت تحریمی کا مر تکب اور گنہگار ہوا، لہذا اس پر تو بہ کرنا اور دوباره دور کعت نماز ادا کرنا واجب ہے، البتہ اگر سہو ا یعنی بھولے سے چار رکعتیں پڑھی ہوں، تو سجدہ سہو واجب ہے اور سجدہ سہو واجب ہونے کے باوجو د نہ کیا، تو دوبارہ نماز ادا کرنا واجب ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.