Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایک پیر سے بیعت کے باوجود کسی اور کی بیعت کرنا؟
Answer (beginning)
جامع شرائط پیر صاحب کے ہاتھ پر بیعت ہو جانے کے بعد کسی دوسرے پیر صاحب سے بیعت نہیں ہونا چاہیے ، البتہ حصولِ برکت کے لیے بوقتِ ضرورت ”طالب“ ہو جانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ، لیکن طالب ہونے کے بعد ، جو بھی برکات حاصل ہوں، انہیں اپنے پیر صاحب کا ہی فیضان سمجھے۔ ایک پیر کے مُرید ہوتے ہوئے کسی دوسرے پیر صاحب سے مرید ہونے کے متعلق امام عبد الوہاب شعرانی حنفی رَحْمَةُ الله تَعَالَى عَلَيْهِ سالِ وفات : 973 / 1565ء) اپنی کتاب ”المنن الکبری “ میں لکھتے ہیں: ” كان سيدي علي بن وفاء رضي الله تعالى عنه يقول: كما لم يكن للعالم إلهان، ولا للرجل قلبان، ولا للمرأة زوجان كذلك لا يكون للمريد شیخان۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.