Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا بروکر دونوں طرف سے بروکری لے سکتا ہے ؟
Answer (beginning)
بروکر جب کسی ایک پارٹی کی جانب سے عقد کرے، تو اسی پارٹی سے بروکری لینے کا مستحق ہے، جس کی طرف سے اس نے عقد کیا، دوسری پارٹی سے نہیں۔ چنانچہ العقود الدریۃ میں ہے: "الدلال إذا باع العين بنفسه ثم أراد أن يأخذ من المشتري الدلالة ليس له ذلك، لأنه هو العاقد حقيقة وتجب على البائع الدلالة؛ لأنه فعل بأمر البائع “ بروکر جب چیز کو بذات خود فروخت کرے، پھر چاہے کہ مشتری سے بھی بروکری لے، تو یہ اس کے لیے جائز نہیں، اس لیے کہ حقیقتہ وہ ہی عاقد ہے، اور بائع پر بروکر کی اجرت واجب ہے ،اس لیے کہ بروکر نے اس کے حکم سے کام (تنقيح الفتاوى الحامدية، ج 1، ص 445، مطبوعه (کراچی) ہاں اگر بر و کر کسی پارٹی کی طرف سے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.