Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کا سر نہ ہو تو نماز جنازہ ہوگی یا نہیں؟
Answer (beginning)
مذکورہ میت کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ کیونکہ مذکورہ صورت میں میت کے سر کے علاوہ باقی حصہ موجود ہے اور جب میت کے جسم کا اکثر حصہ موجود ہو اگر چہ سر نہ ہو یا اکثر حصہ تو نہیں ہے، لیکن آدھا حصہ سر سمیت موجود ہو، تو نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ البتہ اگر آدھے حصے کے ساتھ سر نہیں ہے یا آدھے سے بھی کم جسم ہے، تو اسے بغیر غسل دیے، بغیر نماز جنازہ پڑھے دفن کر دیا جائے گا۔ مجمع الانہر میں ہے: ” (ولا يصلى على عضو) أي عضو كان هذا إذا وجد الأقل ولو مع الرأس..أما إذا وجد الأكثر أو النصف مع الرأس فيغسل ويصلى عليه بالاتفاق ترجمہ : کسی ایک عضو پر نماز نہیں پڑھی جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.