Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سرمایہ ڈوب جائے تو کیا زکوٰۃ لے سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
ایسا شخص صرف بوقتِ حاجت بقدر حاجت زکوۃ لے سکتا ہے ، اس سے زیادہ نہیں لے سکتا اور بہتر یہ ہے کہ بوقت حاجت قرض لے کر گزارہ کرے، لیکن اگر قرض نہ لے اور زکوۃ لے تو اس کے لیے اس کی گنجائش ہے، کیونکہ یہ شخص، ابن السبیل (ایسا مسافر جو اپنے مال سے انتفاع پر قادر نہ ہو) کے حکم میں ہے اور ابن السبیل کا یہی حکم ہے۔ فتح القدیر میں ہے: ” (قوله وابن السبيل) وهو المسافر ۔۔۔ فیجوز له أن يأخذوإن كان له مال في وطنه لا يقدر عليه للحال، ولا يحل له أن يأخذ أكثر من حاجته، والأولى له أن يستقرض إن قدر ولا يلزمه ذلك لجواز عجزه عن الأداء، وألحق كل من هو غائب عن ماله وإن كان في بلده ولا يقدر عليه به “ترجمہ : اور زکوۃ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.