Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پریمئیم پرائز بانڈ کا شرعی حکم ؟
Answer (beginning)
اولاً یہ بات ذہن نشین رہے کہ پر یمنیم پرائز بانڈ کی حیثیت محض اکاؤنٹ میں جمع کردہ قرض کی رسید کی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس بانڈ کا گم ہو جانا، چوری ہونا یا جل جانا بھی کوئی نقصان کی بات نہیں ہے ، یعنی اگر یہ بانڈ کسی کا چوری ہو جائے یا گم ہو جائے، تو چور کے لیے یہ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے جس کی کوئی قیمت نہیں کہ اس سے نفع اٹھا سکے ، بلکہ اصل مالک جس کے نام پر یہ جاری ہوا ہے وہ اس رسید کا متبادل حاصل کر سکتا ہے اور یہ اس چیز کی دلیل ہے کہ یہ بانڈ خود مال نہیں، بلکہ جمع شدہ مال کی رسید ہے، کیونکہ اگر یہ خود مال ہو تا تو دیگر بانڈزاور کرنسی کی طرح گم ہونے ، جل جانے یا چوری ہو جانے پر مالک کو نقصان ہو…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.