Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا قربانی کے جانور میں عقیقے کا حصہ رکھا جا سکتا ہے؟
Answer (beginning)
قربانی کے جانور میں عقیقے کا حصہ رکھنا جائز ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ حصہ رکھنے میں افضل یہ ہے کہ لڑکے کے عقیقے کے لیے دو حصے اور لڑکی کے عقیقے کے لیے ایک حصہ رکھا جائے ، اگر کسی نے لڑکے کے عقیقے کے لیے بھی ایک حصہ رکھا، جب بھی کوئی حرج نہیں۔ نیز عقیقے کے گوشت کے قربانی کی طرح تین حصے کرنا مستحب ہے ، جو بچے کے والدین، دادا دادی، نانانانی، امیر غریب ہر کوئی کھا سکتا ہے۔ حاشیة الطحطاوی میں ہے: ”و لو ارادوا القربة الاضحية او غيرها من القرب اجزأهم سواء كانت القربة واجبة او تطوعا او وجب على البعض دون البعض وسواء اتفقت جهة القربة او اختلفت ۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.