Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ملازمت والی جگہ پر نمازِ قصر ہوگی یا پوری‎

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر چہ آپ کے بیوی بچے آپ کے ساتھ ہی اسلام آباد رہتے ہیں ،تب بھی اسلام آباد آپ کے لئے وطن اصلی نہیں بنے گا، کیونکہ اسلام آباد آپ کا قیام عارضی ہے، مستقل نہیں اور جو جگہ انسان کی جائے ولادت نہ ہو ، نہ وہاں اس نے شادی کی اور نہ ہی وہاں مستقل رہنے کا ارادہ ہو، تو وہ جگہ اس کے لئے وطن اصلی نہیں بنتی اگر چہ وہاں عارضی طور پر کئی برس رہنے کا ارادہ ہو ، اگر چہ بیوی بچے بھی ساتھ ہی رہتے ہوں ، لہذا جب بھی آپ گوجر انوالہ سے اسلام آباد پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کے ارادے سے آئیں گے ، تو آپ چار رکعت والی نماز میں قصر کریں گے اور اگر پندرہ یا اس سے زیادہ دن مستقل ٹھہرنے کا ارادہ ہو ، تو نماز…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.