Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حاملہ جانور کی قربانی کا شرعی حکم اور فقہی رہنمائی
Answer (beginning)
گا بھن ( حاملہ ) جانور کی قربانی شرعا نا پسند ہے، لیکن قربانی ہو جائے گی اور اگر صرف پندرہ میں روز کا حمل ہے ، تو کسی قسم کا مضائقہ نہیں۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: "شاة او بقرة اشرفت على الولادة، قالوا: يكره ذبحها ترجمہ : بکری یا گائے بچہ جننے کے قریب ہو، تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کو ذبح کرنا مکروہ ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الذبائح، جلد5،صفحہ354،مطبوعہ کراچی) سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن ( متوفی 1340ھ ) فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: " گا بھن کی قربانی، اگر چہ صحیح ہے، مگر نا پسند ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.