Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رہائش کے لیے خریدے فلیٹ پر زکوۃ فرض ہوگی؟
Answer (beginning)
اولاً یادر ہے کہ زکوۃ صرف تین قسم کے اموال پر ہوتی ہے: (1) ثمن یعنی سونا، چاندی (اس کے ساتھ تمام ممالک کی کرنسی اور پرائز بانڈ بھی شامل ہیں)۔(2) چرائی پر چھوٹے جانور۔ (3) مالِ تجارت۔ مالِ تجارت سے مراد وہ مال ہے جسے بیچنے کی نیت سے خرید اہو اور ابھی تک وہی نیت باقی بھی ہو۔ ان کے علاوہ دیگر کسی بھی مال پر زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔ چونکہ آپ نے یہ فلیٹ رہائش کے لیے خریدا تھا، بیچنے کی نیت سے نہیں خریدا تھا، لہذا یہ مال تجارت نہ ہوا۔ مزید دیگر دونوں اموال زکوۃ میں سے بھی نہیں ہے ، لہذا اس کی قیمت پر زکوۃ نہیں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.