Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کے قریب قرآن پاک کی تلاوت کا شرعی حکم
Answer (beginning)
میت کو غسل دینے سے پہلے اس کے پاس کھڑے ہو کر تلاوت کرنا مکر وہ یعنی نا پسندیدہ عمل ہے ، تلاوت کے علاوہ ذکر واذکار کرنے میں حرج نہیں، البتہ اگر میت کے پورے بدن کو کسی کپڑے سے ڈھانپ دیا جائے ، تو غسل دینے سے پہلے بھی تلاوت کر سکتے ہیں۔ میت کے پاس تلاوت کے مکروہ ہونے سے متعلق تنویر الابصار و در مختار ، بحر الرائق، تبیین الحقائق، نہر الفائق اور دیگر کتب فقہ میں ہے، واللفظ للدر: "تكره القراءة عنده حتى يغسل "ترجمہ : میت کے پاس قرآن پاک کی تلاوت کرنا، مگر وہ ہے، یہاں تیک کہ اسے غسل دے دیا جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.