Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرض کا مطالبہ ذمہ لینے والے سے ہوگا یا مقروض سے؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں آپ اپنے قرض کا مطالبہ بکر ہی سے کریں گے ، زید سے نہیں کر سکتے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ شرعا مقروض کا اپنے اوپر لازم آنے والے دین مثلا قرض کو اپنے ذمہ سے دوسرے شخص کے ذمہ کی طرف منتقل کرنا حوالہ کہلاتا ہے ، مقروض یعنی حوالہ کرنے والے کو محیل اور دائن یعنی قرض خواہ کو محتال اور جس پر حوالہ کیا گیا، اسے محتال علیہ یا محال علیہ کہتے ہیں۔ جب مقروض اپنے قرض کا دوسرے شخص پر حوالہ کر دے اور قرض خواہ اسے قبول کرلے ، تو مقروض بری الذمہ ہو جاتا ہے اور اب قرض خواہ اس سے قرض کا مطالبہ نہیں کر سکتا، سوائے اس کے کہ درج ذیل دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت پائی جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.