Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جو کمایا دونوں کا ہوگا کہہ کر برابر نفع تقسیم کرنے کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں نفع یوں طے کیا کہ ”جو بھی نفع ہو گا وہ ہم دونوں لیں گے “ اور مراد اس برابر تقسیم کرنا تھا تو کوئی حرج نہیں، اس مقام پر دونوں کی مراد لفظوں سے واضح نہ ہو لیکن یہ طے ہو کہ آدھا آدھا ہی نفع تقسیم ہو گا تو یہ جائز ہے۔ پوچھی گئی صورت میں عمل بھی نصف نصف پر ہی رہا لہذا آپ کی تجارت درست ہے۔ ہندیہ میں ہے : " لو قال رب المال للمضارب على ان ما رزق الله تعالى من الربح بيننا جاز و يكون الربح بينهما على السواء “ یعنی اگر رب المال نے مضارب سے کہا کہ اللہ جو بھی نفع عطا فرمائے 1 گاوہ ہمارے درمیان تقسیم ہو گا تو یہ جائز ہے اور نفع ان دونوں میں برابر برابر ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.