Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ادھار پر مال خریدنے کی ایک ناجائز صورت

Answer (beginning)

سوال میں بیان کیا گیا طریقہ کار نہ تو پارٹنر شپ کے اصولوں کے مطابق ہے اور نہ ہی خرید و فروخت کے ، لہذا اس طرح کام کرنا شرعاً جائز نہیں۔ اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ اگر اس طریقہ کار کو خرید و فروخت کے طور پر مانیں تو خرید و فروخت میں شمن کا اس طرح معلوم ہونا ضروری ہے کہ عاقدین کے درمیان جھگڑا پیدا نہ ہو۔ جبکہ صورتِ مسئولہ میں پر فیوم کا شمن مجہول ہے ، کیونکہ آگے جس ریٹ پر آپ بیچیں گے ، اس کا ہونے والا آدھا نفع کتنا ہو گا؟ یہ مجہول ہے ، اور شمن کا مجہول ہو نا بیع کو فاسد کر دیتا ہے۔ لہذا آپ کا یوں ادھار سامان خرید نا، جائز نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.