Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شرکتِ عمل میں کام نہ کرنے والے شریک کا حصہ
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر کوئی شریک کام کم کرتا ہے یا کام سے چھٹی کر لیتا ہے ، خواہ وہ کسی عذر کی بنا پر ہو یا بغیر کسی عذر کے ، اور بقیہ شرکاء کام کو مکمل کرتے ہیں، تب بھی غیر حاضر شریک کے حصے میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، اور نفع اسی تناسب سے تقسیم ہو گا جو عقدِ شرکت کے وقت طے کیا گیا تھا۔ 1 اس کی تفصیل یہ ہے کہ دو یا دو سے زائد افراد کا باہم یہ معاہدہ کرنا کہ وہ لوگوں سے کام لے کر اسے انجام دیں گے اور اس سے حاصل ہونے والی اجرت کو آپس میں تقسیم کریں گے ، شریعت مطہرہ کی رو سے "شرکت عمل " ( جسے شركة الصنائع یا شركة التقبل بھی کہا جاتا ہے) کہلاتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.