Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دکان ایک کی محنت دوسرے کی کیا یہ شراکت جائز ہے؟
Answer (beginning)
فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق دولوگوں کا اس طرح شرکت کرنا کہ ان میں سے ایک شخص کی جانب سے کسی چیز مثلاً سواری یاد کان کی منفعت ہو اور دوسرا اس چیز کے ذریعے لوگوں کو سروس فراہم کرے اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والا نفع طے شدہ فیصد کے اعتبار سے تقسیم ہو جائے، یہ شرکتِ فاسدہ کی صورت ہے اور ایسی شرکت کر ناشر عاً جائز نہیں۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ ایک جانب سے دکان کی منفعت اور دوسری جانب سے عمل ہے ، تو یہ 1 بھی شرکت فاسدہ ہی کی صورت ہے ، لہذا فریقین پر لازم ہے کہ اس ناجائز معاہدے کو ختم کر کے اس گناہ سے توبہ کریں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.