Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جائیداد میں لڑکیوں کو عاق کرنا کیسا؟

Answer (beginning)

”عاق نافرمانی کرنے والے کو کہتے ہیں، جو والدین کی نافرمانی کرتا ہے ، وہ خود ہی عاق و گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے، والدین کے عاق کرنے کا اس میں کوئی دخل نہیں، لیکن عاق کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ اس کو وراثت میں سے حصہ نہیں ملے گا، آج کل لوگ اپنی اولاد کو عاق کہہ کر وراثت سے محروم کر دیتے ہیں، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں اور نہ ہی اس وجہ سے کوئی شرعی وارث وراثت سے محروم ہو گا، بلکہ ایسا کرنے والا شخص گنہگار ہو گا، کیونکہ وراثت شریعت کا مقرر کردہ حق ہے ، جو کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہو سکتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں لڑکا ہو یا لڑ کی، اسے اپنی وراثت سے عاق کر ناشر عاً جائز نہیں ہے اور کسی کے کہنے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.