Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بلی کی خرید و فروخت پر حدیث کی وضاحت اور شرعی حکم

Answer (beginning)

بلی کی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، رہی بات ان احادیث کریمہ کی جن میں بلی کی قیمت کھانے سے منع فرمایا گیا ہے ، اس کے محدثین کرام نے چند جوابات دیے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں : پہلا جواب: جس بلی کی خرید و فروخت ممنوع ہے وہ غیر نافع بلی ہے جیسے وحشی بلی۔ دوسرا جواب: Islamic Economics Centre یہ ممانعت ابتدائے اسلام میں تھی کہ جب بلی کو ناپاک جانور قرار دیا گیا تھا، بعد میں جب اس کے جھوٹے کی پاکی کا حکم دیا گیا تو اس کی قیمت حلال ہو گئی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.