Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کرائے پر چیز لے کر قبضہ سے پہلے چیز کرائے پر دینے کا حکم
Answer (beginning)
جس چیز کو کرائے پر لے کر آگے کرائے پر دیا جائے اگر وہ منقولی ہو تو اسے آگے کرائے پر دینے سے پہلے اس پر قبضہ کرناضروری ہے اور اگر وہ غیر منقولی ہو تو اسے قبضے سے پہلے بھی کرائے پر دینا جائز ہے۔ منقولی اشیاء کو قبضے سے قبل آگے کرائے پر دینا منقولی اشیاء کو کرائے پر لے کر آگے کرائے پر دینے کے متعلق علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے Islamic Economics Centre ہیں : ”فلومنقولا لم يجز قبل القبض كذا فى التتارخانية“ یعنی: اگر وہ شے منقولی ہو تو اسے قبضے سے پہلے آگے کرائے پر دینا جائز نہیں جیسا کہ فتاوی نتار خانیہ میں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.