Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکوٰۃ کی رقم سے بورنگ کروا سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
زکوۃ کی ادائیگی میں تملیک یعنی مستحق زکوۃ کو مالک بنانا شرط ہے اور بور نگ کروانے میں مالِ زکوۃ کی تملیک نہیں پائی جاتی، لہذا بورنگ کروانے کے لیے زکوۃ کی رقم کا استعمال کرنا، جائز نہیں، اور بورنگ کروادی، تو زکوۃ ادا نہیں ہو گی۔ رہا پوچھی گئی صورت میں زکوۃ کی رقم کا شرعی حیلہ کرنا، تو اگر کمیونٹی وغیرہ کے اہل ثروت افراد کے ذریعے زکوۃ کے علاوہ صاف مال سے بورنگ وغیرہ کروا کر پانی کا انتظام کرنا، ممکن ہو ، تو اس کام کے لیے زکوۃ کی رقم کا حیلہ کرنے کی ہر گز اجازت نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.