Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جلی ہوئی میت کو غسل اور کفن دینے کا حکم
Answer (beginning)
جس میت کے جسم کا اکثر حصہ جل جائے، لیکن پورا جسم باقی ہو ، تو اسے بھی عام میت کی طرح کفن دیا جائے گا اور اس پر نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔ باقی رہا غسل دینے کا معاملہ اتو شہید معرکہ (یعنی جو شخص جنگ میں جل کر شہید ہوا ہو ، اس کے علاوہ اس طرح کی میت کو غسل بھی دیا جائے گا، البتہ اس میں کچھ تفصیل ہے، جو کہ درج ذیل ہے: (۱) اگر مذکورہ میت کو عام طریقہ کار کے مطابق غسل دینا ممکن ہے کہ اس سے میت کے جسم کو کوئی نقصان نہیں ہو گا ، یعنی اس پر پانی بہانے اور اس کے جسم پر ہاتھ ملنے سے نہ کھال ادھڑے گی اور نہ ہی جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گا، تو ایسی صورت میں اسے عام میت کی طرح غنسل دیا جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.