Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سودی بینک کے فریڈم اکاؤنٹ کا شرعی حکم

Answer (beginning)

قوانین شرعیہ کی روشنی میں یہ اکاؤنٹ کھلوانا، جائز نہیں ہے کیونکہ یہ سودی اکاؤنٹ ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ بینک اپنے اکاؤنٹ ہولڈر کو چالیس ہزار روپے اکاؤنٹ میں مینٹین رکھنے کی شرط پر سروس چار جزو ڈیبیٹ کارڈفیس اور ایس ایم ایس فیس وغیرہ معاف کر کے نفع پہنچارہا ہے حالانکہ یہ چالیس ہزار روپے بینک پر قرض ہیں اور قرض پر جو مشروط نفع لیا جائے وہ سود ہوتا ہے۔ لہذا یہ اکاؤنٹ ایک سودی اکاؤنٹ ہے جسے کھلوانا حرام و گناہ ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ یہ سودی اکاؤنٹ کھلوانے سے بچیں۔ جو مشروط نفع قرض کی بنیاد پر دیا جائے ، وہ سود ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.