Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کمپنی کو دھوکہ دے کر اضافی رقم وصول کرنا کیسا ہے؟
Answer (beginning)
جھوٹ اور دھوکہ دہی کے ذریعے ناحق دوسروں کا مال کھانا بلاشبہ ناجائز و حرام ہے۔ پوچھی گئی صورت میں کمپنی کے نمائندے کا جھوٹ بول کر کمپنی سے اضافی رقم وصول کرنا، ناجائز و گناہ ہے، یہ رقم اُس کے حق میں خالصتاً مال حرام ہے اور آپ چونکہ وہ حرام رقم اُس کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر کے براہِ راست اس حرام کام میں اُس کے معاون و مددگار بن رہے ہیں، اور گناہ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا بھی گناہ ہے کہ قرآن و حدیث میں اس کی شدید مذمت بیان ہوئی ہے۔ لہذا آپ پر لازم ہے کہ اس گناہ سے توبہ کریں اور آئندہ اس گناہ سے خود کو بچائیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.