Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گاڑی کرائے پر دینا اور آمدنی برابر تقسیم کرنا کیسا؟
Answer (beginning)
فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق کسی شخص نے اپنا جانور دوسرے کو دیا تاکہ وہ اسے کرائے (Rent) پر چلائے اور مالک نے یہ شرط لگائی کہ وہ خود کام نہیں کرے گا پھر حاصل ہونے والی آمدنی ان دونوں پر اور نے یہ شرط لگائی کے درمیان مشترک ہو گی تو یہ شرکت فاسدہ ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کا گاڑی چلانے کے لیے دینا اور حاصل ہونے والی آمدنی میں شرکت کرنا بھی شرکت فاسدہ ہی کی صورت ہے۔ البتہ اس کا متبادل جائز حل یہ ہے کہ آپ اجارے کی تمام تر شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی گاڑی یو میہ یاماہانہ Economics Centre بنیاد پر طے شدہ اجرت پر ، اجارہ پر دے دیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.