Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ڈیبِٹ کارڈ کے ڈِسکاؤنٹ کا شرعی حکم؟

Answer (beginning)

ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے خریداری پر ڈسکاؤنٹ آفر دو طرح سے ہوتی ہے۔ (1) بائع کی طرف سے۔ (2) بینک کی طرف سے۔ یہ ڈسکاؤنٹ بہر دو صورت جائز ہے۔ اول اس لئے کہ یہ خود بائع کی طرف سے شمن میں کمی ہے۔ بائع کو شمن میں کمی کرنے کا شرعاً اختیار ہے اور وہ شمن میں جتنی کمی کرے گا وہ کمی اصل عقد سے ملحق ہو جائے گی۔ در مختار میں ہے:" و LU صح الحط منه ولو بعد هلاك المبيع و قبض الثمن والزيادة والحط يلتحقان باصل العقد" بائع کی طرف سے شمن کی کمی صحیح ہے اگر مبیع کے ہلاک ہونے اور شمن پر قبضہ کرنے کے بعد ہو۔ ثمن میں زیادتی و کمی دونوں اصل عقد کے ساتھ ملحق ہو جائیں گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.