Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نفلی حج کرنا افضل ہے یا نفلی صدقہ کرنا؟
Answer (beginning)
نفلی کاموں میں سے کونسا نظلی کام افضل ہے، اس بارے میں فقہائے اسلام نے قاعدہ بیان کیا ہے کہ جس نفلی کام کی حاجت وضرورت زیادہ ہو وہ افضل ہے، لہذا اگر کسی علاقے میں مسافر خانے یائل وغیرہ کی زیادہ حاجت ہو، تو یہ بنانا نفلی حج سے افضل ہے، جبکہ نفلی حج ، عام صدقات سے افضل ہے، البتہ اگر کوئی شخص بہت حاجت مند اور تکلیف میں ہے یا نیک لوگوں میں سے کوئی ضرورت مند ہے یا سادات کرام میں سے کوئی محتاج ہے ، تو اس کی مدد کر نا نفلی حج سے افضل ہے ، جیسا کہ ردالمحتار میں ہے: ” قال الرحمتی : والحق التفصيل، فما كانت الحاجة فيه أكثر والمنفعة فيه أشمل فهو الأفضل كما ورد حجة أفضل من عشر غزوات وورد عکسه فيحمل على ما…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.